عالمی رائے عامہ

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - [ سیاست ]  ساری دنیا کے عوام کی رائے، وہ خیال جس پر دنیا بھر کے لوگ متفق ہوں۔ "ہمیں نو مہینوں کی مہلت درکار تھی تاکہ ہم . عالمی رائے عامہ کو ہموار کرلیں۔"      ( ١٩٧٧ء، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ١٠٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'عالمی' کے ساتھ 'رائے عامہ' لگانے سے مرکب توصیفی 'رائے عامہ' بنایا گیا۔ 'رائے عامہ' بھی مرکب توصیفی ہے اس میں 'رائے' موصوف اور 'عامہ' صفت ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٧٧ء کو "میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ سیاست ]  ساری دنیا کے عوام کی رائے، وہ خیال جس پر دنیا بھر کے لوگ متفق ہوں۔ "ہمیں نو مہینوں کی مہلت درکار تھی تاکہ ہم . عالمی رائے عامہ کو ہموار کرلیں۔"      ( ١٩٧٧ء، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ١٠٦ )

جنس: مؤنث